جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 20:29
یمن کے محاذ پر سعودی پالیسیوں کو ناکامی کا سامنا، مسلم دنیا دوہرے معیار سے باہر نکلے: علامہ سید ثاقب حسین شیرازی

حوزہ / علامہ سید ثاقب حسین شیرازی نے خطبۂ جمعہ کے دوران حقوق العباد، دیگر مخلوقات کے حقوق، قرآن کریم کی تلاوت، حسد و عصبیت، ایامِ فاطمیہ کی اہمیت اور عالم اسلام کو درپیش حالات پر خطاب کرتے ہوئے دینی و سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیپل مسجد علیزئی، کوہاٹ میں نماز جمعہ کے پہلے خطبے میں امام جمعہ علامہ سید ثاقب حسین شیرازی نے کہا: انسان زمین، درختوں، پھلوں، حیوانات، پانی، دریاؤں، صحراؤں اور دیگر قدرتی وسائل سے مسلسل فائدہ اٹھاتا ہے لیکن اکثر اس بات پر غور نہیں کرتا کہ ان مخلوقات کے حوالے سے اس پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انسان اپنی ضروریات کے لیے دوسری مخلوقات سے فائدہ تو حاصل کر لیتا ہے، مگر ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے۔

انہوں نے روزِ جمعہ کے حقوق کی ادائیگی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے سورۂ جمعہ کی آیت 9 کا حوالہ دیا، جس میں اہل ایمان کو نمازِ جمعہ کی اذان کے بعد اللہ کے ذکر کی طرف بڑھنے اور خرید و فروخت ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خطیب جمعہ نے کہا: نمازِ جمعہ کے لیے کاروبار اور دنیاوی مصروفیات سے وقت نکالنا جمعہ کے حقوق میں شامل ہے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں غفلت برتتے ہیں۔ بعض افراد مسجد کے قریب اپنی دکان بند کرنے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہوتے، مگر اس کے باوجود جمعہ کے دن سے برکت، شفاعت اور فشارِ قبر سے نجات کی امید رکھتے ہیں۔

ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے

مصحف سے قرآن کریم کی تلاوت کی فضیلت

امام جمعہ نے قرآن کریم کی تلاوت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: اگرچہ آج کل موبائل فون میں قرآن کریم کی تلاوت کی سہولت موجود ہے، تاہم قرآن کریم کو مصحف سے دیکھ کر پڑھنے کی اپنی خاص فضیلت ہے۔

انہوں نے کتاب الکافی کے باب «قراءة القرآن في المصحف» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس باب میں موجود روایات کے مطابق، مصحف سے قرآن کریم کی تلاوت کی خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے، کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کے متن کی طرف دیکھنا بھی عبادت شمار ہوتا ہے۔

علامہ سید ثاقب حسین شیرازی نے اس ضمن میں ایک روایت کا مفہوم بیان کیا کہ جو شخص مصحف سے قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے والدین کے گناہوں کے بوجھ میں تخفیف فرماتا ہے، خواہ اس کے والدین کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے ہوں۔

حسد اور عصبیت میں فرق

خطبے کے پہلے حصے میں امام جمعہ نے حسد اور عصبیت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا: اگرچہ عام طور پر ان دونوں الفاظ کو ایک دوسرے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کے مفہوم میں فرق ہے۔ عصبیت سے مراد نسلی، لسانی، قبائلی، جماعتی یا خاندانی وابستگی کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا اور اپنے گروہ کو بلاجواز برتر سمجھنا ہے۔

انہوں نے کہا: معاشرے میں بعض اوقات انسان محض اس بنیاد پر دوسروں سے نفرت کرنے لگتا ہے کہ وہ اس کے قبیلے، خاندان، قوم یا نسل سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ طرزِ فکر معاشرتی وحدت کو نقصان پہنچاتا اور تعصب کو فروغ دیتا ہے۔ خصوصاً قبائلی معاشروں میں اس رویے کے منفی اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کتاب الکافی میں منقول روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جو شخص عصبیت اور نسلی گروہ بندی کی بنیاد پر تعصب اختیار کرتا ہے، وہ ایمان کے دائرے سے نکلنے کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ قومی، نسلی اور خاندانی تعصبات سے بالاتر ہو کر حق و انصاف کو معیار بنائیں۔

ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے

ایامِ فاطمیہ کے انعقاد اور سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے دفاع پر تاکید

خطبۂ جمعہ کے دوسرے حصے میں علامہ سید ثاقب حسین شیرازی نے ایامِ فاطمیہ کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان ایام میں مجالسِ عزاء کے انعقاد اور سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ترویج کے لیے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے، تاکہ ان مجالس کا اہتمام بہترین انداز میں کیا جا سکے۔

انہوں نے تاریخی حقائق بیان کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: آج حقائق کو مسخ کرنے اور باطل کو حق کا لباس پہنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بعض حلقے یزید کو حق پر ثابت کرنے اور اس کے اقدامات کو درست قرار دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ ہمیں اہل بیت علیہم السلام کے دفاع اور تاریخی حقائق کی وضاحت میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔

خطیب جمعہ نے کہا: دوسروں کے مقدسات کی توہین سے اجتناب ضروری ہے، لیکن مستند تاریخی شواہد اور دلائل کی روشنی میں حق بیان کرنا ہمارا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ جب بعض لوگ اپنے نظریات کے دفاع میں بے خوف ہو کر بات کرتے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام، حقوق اور مظلومیت کو دلیل و استدلال کے ساتھ بیان کریں۔

یمن کی صورت حال اور سعودی عرب کی پالیسیوں پر تنقید

علامہ سید ثاقب حسین شیرازی نے عالم اسلام کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے یمن میں جاری تنازع اور سعودی عرب کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا: یمن کے عوام شدید مشکلات، معاشی تنگی اور جنگ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہیں، جبکہ انصار اللہ کو فوجی اور مالی نقصان پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ سعودی قیادت کو یمن کے محاذ پر شدید مشکلات اور دباؤ کا سامنا ہے اور اس کی پالیسیوں کو مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ انہوں نے مزید کہا: خطے میں تکفیری عناصر کو استعمال کرنے اور مختلف ممالک سے جنگجوؤں کو جمع کرنے کی کوششیں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

خطیب جمعہ نے دشمن کی حکمت عملی کا تاریخی واقعات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا: تاریخ میں بھی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہبی علامتوں کو استعمال کیا گیا۔ جنگِ صفین میں قرآن کریم کو نیزوں پر بلند کرنے کا واقعہ اس کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح آج بھی مقدس مقامات اور مذہبی جذبات کو سیاسی و عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے

خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کا کردار

امام جمعہ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ خطے میں مختلف عالمی اور علاقائی قوتیں ایران اور یمن کے خلاف منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور بعض اسلامی ممالک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: موجودہ حالات میں مسلم دنیا کو اپنے فیصلوں اور علاقائی اتحادوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے ایران اور آبنائے ہرمز و باب المندب کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے اقتصادی دباؤ اور بحری راستوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق، خطے میں عسکری کشیدگی کے ساتھ اقتصادی محاذ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

آذربائیجان میں حجاب کی پابندی اور اسلامی نظام کی اہمیت

امام جمعہ نے آذربائیجان میں تعلیمی اداروں میں حجاب سے متعلق پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: کسی ملک میں شیعہ آبادی کی اکثریت ہونا بذاتِ خود اسلامی اقدار کے تحفظ کی ضمانت نہیں بلکہ حکومتی نظام اور اس کی پالیسیوں کا بھی اس حوالے سے بنیادی کردار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا: اسلامی معاشرے میں دینی اقدار، اسلامی لباس اور حجاب کے احترام کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ بعض مقامات پر مسلمانوں کو حجاب کی پابندی کی تلقین کی جاتی ہے لیکن جہاں حجاب پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں وہاں اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی اقدار کے حوالے سے اصولی اور یکساں مؤقف اختیار کیا جائے۔

فلسطین اور یمن کے حوالے سے پاکستانی شیعہ برادری کی ذمہ داری

علامہ سید ثاقب حسین شیرازی نے اپنے خطاب کے اختتام پر فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کے حوالے سے پاکستانی شیعہ برادری کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: فلسطین کے مسئلے پر پاکستانی شیعوں نے کسی حد تک آواز بلند کی، تاہم یمن کے معاملے میں وہ کردار ادا نہیں کیا گیا جو حالات کا تقاضا تھا۔

انہوں نے زور دیا کہ مظلوم اقوام کی حمایت میں دوہرے معیار سے گریز کیا جائے اور ہر مظلوم قوم کے حق میں اصولی، مؤثر اور یکساں آواز بلند کی جائے۔ انہوں نے کہا: امت مسلمہ کو باہمی اتحاد، بیداری اور عملی تعاون کے ذریعے فلسطین، یمن اور دیگر مظلوم اقوام کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha